8 اشعار

مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے

Mushkil hai ke ab shehar maiñ nikle koī ghar se

مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے

«مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سےدستار پہ بات آ گئی ہوتی ہوئی سر سے

برسا بھی تو کس دشت کے بے فیض بدن پراک عمر مرے کھیت تھے جس ابر کو ترسے

کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہےچڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے

محنت مری آندھی سے تو منسوب نہیں تھیرہنا تھا کوئی ربط شجر کا بھی ثمر سے

خود اپنے سے ملنے کا تو یارا نہ تھا مجھ میںمیں بھیڑ میں گم ہو گئی تنہائی کے ڈر سے

بے نام مسافت ہی مقدر ہے تو کیا غممنزل کا تعین کبھی ہوتا ہے سفر سے

پتھرایا ہے دل یوں کہ کوئی اسم پڑھا جائےیہ شہر نکلتا نہیں جادو کے اثر سے

نکلے ہیں تو رستے میں کہیں شام بھی ہوگیسورج بھی مگر آئے گا اس رہ گزر سے

— پروین شاکر