10 اشعار

پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون

Pā ba gul sab hī haiñ rihāī kī kare tadbeer kaun

پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون

«پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کوندست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون

میرا سر حاضر ہے لیکن میرا منصف دیکھ لےکر رہا ہے میری فرد جرم کو تحریر کون

آج دروازوں پہ دستک جانی پہچانی سی ہےآج میرے نام لاتا ہے مری تعزیر کون

کوئی مقتل کو گیا تھا مدتوں پہلے مگرہے در خیمہ پہ اب تک صورت تصویر کون

میری چادر تو چھنی تھی شام کی تنہائی میںبے ردائی کو مری پھر دے گیا تشہیر کون

سچ جہاں پابستہ ملزم کے کٹہرے میں ملےاس عدالت میں سنے گا عدل کی تفسیر کون

نیند جب خوابوں سے پیاری ہو تو ایسے عہد میںخواب دیکھے کون اور خوابوں کو دے تعبیر کون

ریت ابھی پچھلے مکانوں کی نہ واپس آئی تھیپھر لب ساحل گھروندا کر گیا تعمیر کون

سارے رشتے ہجرتوں میں ساتھ دیتے ہیں تو پھرشہر سے جاتے ہوئے ہوتا ہے دامن گیر کون

دشمنوں کے ساتھ میرے دوست بھی آزاد ہیںدیکھنا ہے کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون

— پروین شاکر