6 اشعار

قید میں گزرے گی جو عمر بڑے کام کی تھی

Qaid Mein Guzre Gi Jo Umar Bade Kaam Ki Thi

قید میں گزرے گی جو عمر بڑے کام کی تھی

«قید میں گزرے گی جو عمر بڑے کام کی تھی» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

قید میں گزرے گی جو عمر بڑے کام کی تھیپر میں کیا کرتی کہ زنجیر ترے نام کی تھی

جس کے ماتھے پہ مرے بخت کا تارہ چمکاچاند کے ڈوبنے کی بات اسی شام کی تھی

میں نے ہاتھوں کو ہی پتوار بنایا ورنہایک ٹوٹی ہوئی کشتی مرے کس کام کی تھی

وہ کہانی کہ ابھی سوئیاں نکلیں بھی نہ تھیںفکر ہر شخص کو شہزادی کے انجام کی تھی

یہ ہوا کیسے اڑا لے گئی آنچل میرایوں ستانے کی تو عادت مرے گھنشیام کی تھی

بوجھ اٹھاتے ہوئے پھرتی ہے ہمارا اب تکاے زمیں ماں تری یہ عمر تو آرام کی تھی

— پروین شاکر