6 اشعار

قدموں میں بھی تکان تھی گھر بھی قریب تھا

Qadmon Mein Bhi Takaan Thi Ghar Bhi Qareeb Tha

قدموں میں بھی تکان تھی گھر بھی قریب تھا

«قدموں میں بھی تکان تھی گھر بھی قریب تھا» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

قدموں میں بھی تکان تھی گھر بھی قریب تھاپر کیا کریں کہ اب کے سفر ہی عجیب تھا

نکلے اگر تو چاند دریچے میں رک بھی جائےاس شہر بے چراغ میں کس کا نصیب تھا

آندھی نے ان رتوں کو بھی بے کار کر دیاجن کا کبھی ہما سا پرندہ نصیب تھا

کچھ اپنے آپ سے ہی اسے کشمکش نہ تھیمجھ میں بھی کوئی شخص اسی کا رقیب تھا

پوچھا کسی نے مول تو حیران رہ گیااپنی نگاہ میں کوئی کتنا غریب تھا

مقتل سے آنے والی ہوا کو بھی کب ملاایسا کوئی دریچہ کہ جو بے صلیب تھا

— پروین شاکر