12 اشعار

شب وہی لیکن ستارہ اور ہے

Shab Wahi Lekin Sitara Aur Hai

شب وہی لیکن ستارہ اور ہے

«شب وہی لیکن ستارہ اور ہے» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

شب وہی لیکن ستارہ اور ہےاب سفر کا استعارہ اور ہے

ایک مٹھی ریت میں کیسے رہےاس سمندر کا کنارہ اور ہے

موج کے مڑنے میں کتنی دیر ہےناؤ ڈالی اور دھارا اور ہے

جنگ کا ہتھیار طے کچھ اور تھاتیر سینے میں اتارا اور ہے

متن میں تو جرم ثابت ہے مگرحاشیہ سارے کا سارا اور ہے

ساتھ تو میرا زمیں دیتی مگرآسماں کا ہی اشارہ اور ہے

دھوپ میں دیوار ہی کام آئے گیتیز بارش کا سہارا اور ہے

ہارنے میں اک انا کی بات تھیجیت جانے میں خسارا اور ہے

سکھ کے موسم انگلیوں پر گن لیےفصل غم کا گوشوارہ اور ہے

دیر سے پلکیں نہیں جھپکیں مریپیش جاں اب کے نظارہ اور ہے

اور کچھ پل اس کا رستہ دیکھ لوںآسماں پر ایک تارہ اور ہے

حد چراغوں کی یہاں سے ختم ہےآج سے رستہ ہمارا اور ہے

— پروین شاکر