9 اشعار

شوق رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں

Shauq-e-Raqs Se Jab Tak Ungliyan Nahin Khultien

شوق رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں

«شوق رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

شوق رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیںپاؤں سے ہواؤں کے بیڑیاں نہیں کھلتیں

پیڑ کو دعا دے کر کٹ گئی بہاروں سےپھول اتنے بڑھ آئے کھڑکیاں نہیں کھلتیں

پھول بن کے سیروں میں اور کون شامل تھاشوخی صبا سے تو بالیاں نہیں کھلتیں

حسن کے سمجھنے کو عمر چاہئے جاناںدو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں

کوئی موجۂ شیریں چوم کر جگائے گیسورجوں کے نیزوں سے سیپیاں نہیں کھلتیں

ماں سے کیا کہیں گی دکھ ہجر کا کہ خود پر بھیاتنی چھوٹی عمروں کی بچیاں نہیں کھلتیں

شاخ شاخ سرگرداں کس کی جستجو میں ہیںکون سے سفر میں ہیں تتلیاں نہیں کھلتیں

آدھی رات کی چپ میں کس کی چاپ ابھرتی ہےچھت پہ کون آتا ہے سیڑھیاں نہیں کھلتیں

پانیوں کے چڑھنے تک حال کہہ سکیں اور پھرکیا قیامتیں گزریں بستیاں نہیں کھلتیں

— پروین شاکر