8 اشعار

تازہ محبتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہے

Taza mohabbaton ka nasha jism-o-jaan mein hai

تازہ محبتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہے

«تازہ محبتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہے» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

تازہ محبتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہےپھر موسم بہار مرے گلستاں میں ہے

اک خواب ہے کہ بار دگر دیکھتے ہیں ہماک آشنا سی روشنی سارے مکاں میں ہے

تابش میں اپنی مہر و مہ و نجم سے سواجگنو سی یہ زمیں جو کف آسماں میں ہے

اک شاخ یاسمین تھی کل تک خزاں اثراور آج سارا باغ اسی کی اماں میں ہے

خوشبو کو ترک کر کے نہ لائے چمن میں رنگاتنی تو سوجھ بوجھ مرے باغباں میں ہے

لشکر کی آنکھ مال غنیمت پہ ہے لگیسالار فوج اور کسی امتحاں میں ہے

ہر جاں نثار یاد دہانی میں منہمکنیکی کا ہر حساب دل دوستاں میں ہے

حیرت سے دیکھتا ہے سمندر مری طرفکشتی میں کوئی بات ہے یا بادباں میں ہے

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں