5 اشعار

جو پھسلا میرے ہاتھ سے وہ پَل نہیں ملا

Jo phisla mere haath se woh pal nahi mila

جو پھسلا میرے ہاتھ سے وہ پَل نہیں ملا

«جو پھسلا میرے ہاتھ سے وہ پَل نہیں ملا» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

جو پھسلا میرے ہاتھ سے وہ پَل نہیں ملامیرا گزرا ہوا کل مجھے واپس نہیں ملا

لوگوں سے بھری دنیا میں ڈھونڈا بہت مگرفرشتے ملے مجھے بہت لیکن انساں نہیں ملا

سوچا کسی کے دل میں اب گھر بنا لوں میںلیکن کسی کا دل مجھے ثابت نہیں ملا

ایسا نہیں ہے کہ مجھے منزل نہیں ملیمنزل ملی مگر ،،، کبھی راستا نہیں ملا

برسوں سے میں نے ڈھونڈا لیکن مجھےاس شہر میں کوئی بھی تیرے جیسا نہیں ملا.!!!

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں