11 اشعار

اب کوئی ترا مثل نہیں ناز و ادا میں

Ab koi tera misl nahin naaz-o-ada mein

اب کوئی ترا مثل نہیں ناز و ادا میں

«اب کوئی ترا مثل نہیں ناز و ادا میں» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

اب کوئی ترا مثل نہیں ناز و ادا میںانداز میں شوخی میں شرارت میں حیا میں

مغرور سے سرکش متواضع پہ ہوں قرباںمٹی میں تو مٹی ہوں ہوا ہوں میں ہوا میں

کیا خوب وہ خود کرتے ہیں یوں اپنی ستائشآفت ہوں جلانے میں قیامت ہوں جفا میں

غیرت نہیں آتی تمہیں ہر بات میں بیٹھےالفت میں محبت میں مروت میں وفا میں

جب ہو دم آخر تو بچا لینے کی طاقتپھر خاک شفا میں نہ کہیں آب بقا میں

وہ چاہے تو سب کچھ ہے نہ چاہے تو نہیں کچھتعویذ میں گنڈے میں فتیلہ میں دعا میں

اک ادنیٰ سا پردہ ہے اک ادنیٰ سا تفاوتمخلوق میں معبود میں بندہ میں خدا میں

سرخی کے سبب خوب کھلا ہے گل لالہعارض میں لبوں میں کف دست و کف پا میں

عشاق کی خوں ریزی سے کیا فائدہ ظالممشغول ہو لاکھے میں تو مصروف حنا میں

عاشق تو ہمیشہ ہے محبت کی بدولتالزام میں تقصیر میں عصیاں میں خطا میں

ہم بھی تھے کبھی خوبیٔ تقدیر سے پرویںؔعرفات میں مزدلفہ میں مکہ میں منا میں

— پروین ام مشتاق