14 اشعار

متکبر نہ ہو زردار بڑی مشکل ہے

Mutakabbir na ho zardaar, badi mushkil hai

متکبر نہ ہو زردار بڑی مشکل ہے

«متکبر نہ ہو زردار بڑی مشکل ہے» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 48 سیکنڈ ہے۔

متکبر نہ ہو زردار بڑی مشکل ہےسب ہے آسان یہ سرکار بڑی مشکل ہے

کفر پر خلق ہے تیار بڑی مشکل ہےدین بالکل نہیں درکار بڑی مشکل ہے

کیسے ٹیڑھا نہ چلے مار بڑی مشکل ہےسیدھی ہو زلف گرہ دار بڑی مشکل ہے

اور ہوں گے وہ کوئی دام میں آنے والےمرغ دانا ہو گرفتار بڑی مشکل ہے

دل ہے غم ناک تو کونین ہے ماتم خانہروتے ہیں سب در و دیوار بڑی مشکل ہے

لوگ کہتے ہیں کہ دل اس کو نہ دینا لیکنبعد اقرار کے انکار بڑی مشکل ہے

شعلۂ حسن بتاں پھونک نہ دے عالم کوسرخ ہیں پھول سے رخسار بڑی مشکل ہے

ان دنوں حضرت یوسف کی وہ ناقدری ہےنہیں بڑھیا بھی خریدار بری مشکل ہے

مل کے رہنا ہی نہیں جانتا یاں اب کوئیجان و دل میں بھی ہے تکرار بڑی مشکل ہے

نہ تردد کا مزا ہے نہ سکوں کی لذتکبھی وعدہ کبھی انکار بڑی مشکل ہے

طالب صلح ہوں میں اور نظر طالب جنگرات دن لڑنے پہ تیار بڑی مشکل ہے

ہائے دنیا میں کسی میں نہیں اتنی بھی وفاجتنا کتا ہے وفادار بڑی مشکل ہے

آج تم تیغ بکف ہو تو صفا چٹ میداںکون مرنے پہ ہو تیار بڑی مشکل ہے

جنس دل بیچنے کی ہم کو ضرورت پرویںؔاور معدوم خریدار بڑی مشکل ہے

— پروین ام مشتاق