9 اشعار

نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھا

Na aaya kar ke wa'ada-e-vasl ka iqrar tha kya tha

نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھا

«نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھا» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھاکسی کے بس میں تھا مجبور تھا لاچار تھا کیا تھا

برا ہو بد گمانی کا وہ نامہ غیر کا سمجھاہمارے ہاتھ میں تو پرچۂ اخبار تھا کیا تھا

صدا سنتے ہی گویا مردنی سی چھا گئی مجھ پریہ شور صور تھا یا وصل کا انکار تھا کیا تھا

خدا کا دوست ہے تعمیر دل جو شخص کرتا ہوخلیل اللہ بھی کعبہ کا اک معمار تھا کیا تھا

نہ آئے تم نہ آؤ میں نے کیا کچھ منتیں کی تھیںتمہیں نے خود کیا تھا عہد یہ اقرار تھا کیا تھا

ہوا میں جب اڑا پردہ تو اک بجلی سی کوندی تھیخدا جانے تمہارا پرتو رخسار تھا کیا تھا

ملا تو ہم سے محفل میں جو شب کو غیر کیوں بگڑاترا حاکم تھا ٹھیکا دار تھا مختار تھا کیا تھا

مری میت پہ ماتم کرتے ہو اللہ رے چالاکیخبر ہے خود تمہیں مدت سے میں بیمار تھا کیا تھا

ہزاروں حسرتیں بیتاب تھیں باہر نکلنے کووہ سوتے میں بھی پرویںؔ فتنۂ بیدار تھا کیا تھا

— پروین ام مشتاق