10 اشعار

بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیں

Baazi pe dil laga hai koi dillagi nahin

بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیں

«بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیں» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے پرشانت نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «واعظ شراب و حور کی الفت میں غرق ہے پروین ام مشتاق» میں 20 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیںیہ بھی ہے کوئی بات کبھی ہاں کبھی نہیں

جس نے کچھ احتیاط جوانی میں کی نہیںعقل سلیم کہتی ہے وہ آدمی نہیں

دل مانگو تو جواب ہے ان کا ابھی نہیںگویا ابھی نہیں کا ہے مطلب کبھی نہیں

واعظ کو لعن طعن کی فرصت ہے کس طرحپوری ابھی خدا کی طرف لو لگی نہیں

عاشق پر ان کا ایک ذرا سا ہے التفاتاور وہ بھی اس طرح کہ کبھی ہے کبھی نہیں

جیسا کہ آپ چاہتے ہیں شخص پاک و صافایسا تو شہر بھر میں کوئی متقی نہیں

تنہا جیے تو خاک جیے لطف کیا لیااے خضر یہ تو زندگی میں زندگی نہیں

ہم سب ہیں راہگیر تصادم کا کیا سببدنیا ہے شاہراہ کچھ ایسی گلی نہیں

دل میں نشاط آئے تو چہرہ ہو تابناکجب تک جناب چاند نہیں چاندنی نہیں

پرویںؔ جلاؤ شمع عمل گور کے لئےسورج کا نور چاند کے وہاں چاندنی نہیں

— پروین ام مشتاق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں