8 اشعار

خدا کے فضل سے ہم حق پہ ہیں باطل سے کیا نسبت

Khuda ke fazl se hum haq pe hain baatil se kya nisbat

خدا کے فضل سے ہم حق پہ ہیں باطل سے کیا نسبت

«خدا کے فضل سے ہم حق پہ ہیں باطل سے کیا نسبت» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

خدا کے فضل سے ہم حق پہ ہیں باطل سے کیا نسبتہمیں تم سے تعلق ہے مہ کامل سے کیا نسبت

مہ کنعاں کو میرے اس مہ کامل سے کیا نسبتزلیخا کے ملوث دل کو میرے دل سے کیا نسبت

ہمہ کا رم زخود کامی بہ بدنامی کشید آخرکبھی میں نے نہ سوچا راز کو محفل سے کیا نسبت

کہے جاتا ہے جو واعظ سنے جاتے ہیں ہم لیکنجو اہل دل نہیں اس کو ہمارے دل سے کیا نسبت

مجھے ہے صدمۂ ہجراں عدو کو سیکڑوں خوشیاںمرے اجڑے ہوئے گھر کو بھری محفل سے کیا نسبت

خدا ہی پھر بھروسہ ہے خدا ہے ناخدا میراوگرنہ میں بھنور میں ہوں مجھے ساحل سے کیا نسبت

فراق یار میں میرا دل مضطر نہ ٹھہرے گاتمہیں سوچو سکوں کو طائر بسمل سے کیا نسبت

کنیز حضرت مشکل کشا ہوں دل سے میں پرویںؔتعلق مجھ کو آسانی سے ہے مشکل سے کیا نسبت

— پروین ام مشتاق