11 اشعار

محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنا

Mehfil mein ghair hi ko na har baar dekhna

محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنا

«محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنا» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنامیری طرف بھی بھول کے سرکار دیکھنا

آغاز سبزہ سے ہے جو رخسار پر غباراگلے برس اسے خط گل زار دیکھنا

جب صرف گفتگو ہوں تو دیکھے انہیں کوئیمنظور ہو جو ابر گہربار دیکھنا

میں نے کہا کہ ہجر میں کچھ مشغلہ نہیںبولے کہ رات دن در و دیوار دیکھنا

کہتا ہوں جب میں ان سے بناؤ سنگھار کوکہتے ہیں کوئی اور طرحدار دیکھنا

میں جان بھی دریغ کروں تو گناہ گارمیرے سوا نہ اور خریدار دیکھنا

وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کچھ عیب تو نہیںرفتار دیکھنا مری گفتار دیکھنا

شیخ زماں قدیم روش کے بزرگ ہیںکتنا بڑا ہے گنبد دستار دیکھنا

وہ بار بار دیکھتے ہیں آئنہ میں منہاللہ ان کا روئے پر انوار دیکھنا

چلتے ہیں کوئے یار میں ہے وقت امتحاںہمت نہ ہارنا دل بیمار دیکھنا

ہوشیار پھونک پھونک کے رکھنا یہاں قدمپرویںؔ ذرا زمانہ کی رفتار دیکھنا

— پروین ام مشتاق