30 اشعار

بدلی ہوئی ہے چرخ کی رفتار آج کل

Badli hui hai charkh ki raftaar aaj kal

بدلی ہوئی ہے چرخ کی رفتار آج کل

«بدلی ہوئی ہے چرخ کی رفتار آج کل» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 4 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

بدلی ہوئی ہے چرخ کی رفتار آج کلہو بند راست گوئی کا بازار آج کل

علم و ہنر ہے ملک کو درکار آج کلہم خود بھلے برے کے ہیں مختار آج کل

ہے اور ہی طریقۂ بازار آج کلجنس نفیس کے ہیں خریدار آج کل

غفلت کا دور ملک سے شاید گزر گیامخلوق ہوتی جاتی ہے بیدار آج کل

گل گونۂ ترقیٔ تہذیب و علم سےشکر خدا کہ سرخ ہیں رخسار آج کل

کیوں جانتے ہیں صنعت و حرفت کو باغ خلدغیروں کی ہم نگاہ میں ہیں خار آج کل

روشن ہے اپنی بے ہنری آفتاب سےہے صبح کے قریب شب تار آج کل

بگڑی ہوئی ہے مے کدۂ دہر کی ہواہو جائیں شیخ جی بھی نہ مے خوار آج کل

کیا کام ان سفید چڑیلوں کا ہند میںکیوں ایسی شادیوں کی ہے بھر مار آج کل

ہر چیز کی گرانی نے ویران کر دیاصرف خزاں ہے ہند کا گل زار آج کل

اس باغ میں ہے باد خزاں و باد قحطہر گل کے دل میں ہے خلش خار آج کل

بھولے ہیں اپنے فرض کو یہ خواجگان ہندحق دینے میں بھی کرتے ہیں انکار آج کل

شکر خدا کہ ظلم سے معذور ہے فلکبرطانیہ ہے خلق کی غم خوار آج کل

یا رب ہمارے دل کو تو اپنی پناہ دےدل دار ہو گئے ہیں دل آزار آج کل

مخصوص ہو چکی ہیں ارادی غلامیاںہے اک انار سیکڑوں بیمار آج کل

ایک ایک کر کے جتنے ہنر تھے وہ چھن گئےہم زندگی سے کیوں نہ ہوں بیزار آج کل

اک جرم اور فرد جرائم میں بڑھ گیایعنی نہ درد دل کا ہو اظہار آج کل

جینے کی فکر کیجئے اور پیٹ کا خیالموقوف کیجے عشق کا آزار آج کل

پابندیاں بھی چاہئیں انسان کو ضرورآزادیوں کی کیوں ہے یہ بھر مار آج کل

ملتا نہیں کہیں دہن یار ہے اناجفاقوں سے جسم ہے کمر یار آج کل

ہے تنگ دستیوں کے سبب ضعف اس قدرسب کی ہیں آنکھیں نرگس بیمار آج کل

لاکھوں محال عقلی و عادی سہی مگرکسب معاش سب سے ہے دشوار آج کل

کیا کیجے تر نوالوں کا موسم نہیں رہاچپکے ہوئے ہیں یار کے رخسار آج کل

فاقوں سے ہے یہ حال اگر تول کر بٹھائیںآدھے ٹکٹ میں جائے تن زار آج کل

گل کر دیا چراغ معیشت تو اے ہوامعدہ کے بھی نہ گھس گئے کیوں خار آج کل

چاروں طرف بلند ہے فریاد ہائے ہائےماتم کدہ ہے قہقۂ دیوار آج کل

دولت جب آئے گی کہ وہی چیز ہم بنائیںجو چیز چاہتے ہوں خریدار آج کل

بہتر ہے کارخانوں سے ہو ملک کا بھلااگلیں گڑے خزانوں کو زردار آج کل

صنعت کا نام گنج ہے حرفت کا نام زرعلم شکم ہے ملک کو درکار آج کل

پرویںؔ کی یہ دعا ہے رہے امن ملک میںرب غفور تو ہی ہے غم خوار آج کل

— پروین ام مشتاق