10 اشعار

جو چار آدمیوں میں گناہ کرتے ہیں

Jo chaar aadmiyon mein gunaah karte hain

جو چار آدمیوں میں گناہ کرتے ہیں

«جو چار آدمیوں میں گناہ کرتے ہیں» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

جو چار آدمیوں میں گناہ کرتے ہیںخدا کی دی ہوئی عزت تباہ کرتے ہیں

بتوں کے ہوتے جو مہ پر نگاہ کرتے ہیںقسم خدا کی بڑا ہی گناہ کرتے ہیں

بڑا ہی ظلم خدا کی پناہ کرتے ہیںہم آہ آہ تو وہ واہ واہ کرتے ہیں

وہ بوسہ دیتے نہیں گورے گورے گالوں کاتمہیں گواہ ہم اے مہر و ماہ کرتے ہیں

بتو تمہیں پہ فدا ہیں بتو تمہیں پہ نثاریقیں نہ ہو تو خدا کو گواہ کرتے ہیں

کبھی وہ دیکھتے ہیں اپنے تیغ و بازو کوکبھی وہ غیظ سے مجھ پر نگاہ کرتے ہیں

مجال کیا ہے جو لوں نام اپنے قاتل کاتمہیں پہ لوگ مگر اشتباہ کرتے ہیں

خیال رکھتے ہیں ہر وقت دوستی کا شریفاسی طرح سے ہمیشہ نباہ کرتے ہیں

گناہ کیا ہے جو دل سے عزیز رکھتے ہیںبنے ہو یوسف ثانی تو چاہ کرتے ہیں

اگر ہو صبر و قناعت کی دولت اے پرویںؔگدا بھی کرتے ہیں وہ ہی جو شاہ کرتے ہیں

— پروین ام مشتاق