10 اشعار

بہت ہی صاف و شفاف آ گیا تقدیر سے کاغذ

Bahut hi saaf-o-shaffaf aa gaya taqdeer se kaghaz

بہت ہی صاف و شفاف آ گیا تقدیر سے کاغذ

«بہت ہی صاف و شفاف آ گیا تقدیر سے کاغذ» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

بہت ہی صاف و شفاف آ گیا تقدیر سے کاغذتمہارے واسطے لایا ہوں میں کشمیر سے کاغذ

ہوا ہے ابروئے جاناں سے دل بے تاب صد پارہمقابل ہو نہیں سکتا دم شمشیر سے کاغذ

اگر لوہے کے گنبد میں رکھیں گے اقربا ان کووہیں پہنچائے گا عاشق کسی تدبیر سے کاغذ

مری قسمت لکھی جاتی تھی جس دن میں اگر ہوتااڑا ہی لیتا دست کاتب تقدیر سے کاغذ

بھلا سادہ ورق پر لکھتا کیا رنگیں مزاجوں کومنقش کر لیا تھا پہلے ہی تقدیر سے کاغذ

کچھ اس خوشبو کی حد بھی ہے معطر ہو گیا بالکلمرے ہاتھوں میں وصف گیسوئے شب گیر سے کاغذ

عدو کا خط ہے یا تعویذ ہے جو یوں ہے سینہ پریہ کیوں رکھا گیا ہے عزت و توقیر سے کاغذ

خط تقدیر سے بہتر میں سمجھوں اس کو دنیا میںتو لکھوا لائے گر قاصد بت بے پیر سے کاغذ

بتا ظالم مرے قاصد نے تیرا کیا بگاڑا تھاجو لے کر پھاڑ ڈالا دست بے تقصیر سے کاغذ

مرے ہاتھ آ گیا پرویںؔ عدو کے نام کا خط تھاگرا تھا رہ میں جو دست بت بے پیر سے کاغذ

— پروین ام مشتاق