9 اشعار

مجھ کو کیا فائدہ گر کوئی رہا میرے بعد

Mujh ko kya faida gar koi raha mere baad

مجھ کو کیا فائدہ گر کوئی رہا میرے بعد

«مجھ کو کیا فائدہ گر کوئی رہا میرے بعد» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

مجھ کو کیا فائدہ گر کوئی رہا میرے بعدساری مخلوق بلا سے ہو فنا میرے بعد

مر چکا میں تو نہیں اس سے مجھے کچھ حاصلبرسے گر پانی کی جا آب بقا میرے بعد

چاہنے والوں کا کرتا ہے زمانہ ماتمماتمی رنگ میں ہے زلف رسا میرے بعد

روئیں گے مجھ کو مرے دوست سب آٹھ آٹھ آنسوبرسے گی قبر پہ گھنگھور گھٹا میرے بعد

یوں ہی کھلتی رہیں گی صحن چمن میں کلیاںیوں ہی چلتی رہے گی باد صبا میرے بعد

جان دینے کو نہ ان پر کوئی تیار ہواگویا جاں باز زمانہ میں نہ تھا میرے بعد

ہاتھ سے ان کے ٹپکتے نہیں مے کے قطرےاشک خوں روتا ہے یہ رنگ حنا میرے بعد

حشر تک کوئی نہ روکے گا ستم گاروں کوجو خدا پہلے تھا وہ ہی ہے خدا میرے بعد

جیتے جی دیتے تھے جو گالیاں مجھ کو پرویںؔمغفرت کے لئے کرتے ہیں دعا میرے بعد

— پروین ام مشتاق