11 اشعار

میں چپ رہوں تو گویا رنج و غم نہاں ہوں

Main chup rahun to goya ranj-o-gham nihaan hun

میں چپ رہوں تو گویا رنج و غم نہاں ہوں

«میں چپ رہوں تو گویا رنج و غم نہاں ہوں» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 38 سیکنڈ ہے۔

میں چپ رہوں تو گویا رنج و غم نہاں ہوںبولوں تو سر سے پا تک حسرت کی داستاں ہوں

مسرور ہو تو مجھ سے میں تجھ سے شادماں ہوںتو میرا میہماں ہو میں تیرا میزباں ہوں

کہتی ہے ان کی مستی ہوش آئے تو میں پوچھوںاے بے خودی بتا دے اس وقت میں کہاں ہوں

ارشاد پر نظر ہے خاموش ہوں کہ گویاچاہو تو بے زباں ہوں چاہو تو با زباں ہوں

جاں گھل چکی ہے غم میں اک تن ہے وہ بھی مہملمعنی نہیں ہیں بالکل مجھ میں اگر بیاں ہوں

میں ہوں جنوں کے ہاتھوں مخلوق کا تماشہنا مہرباں ہوں خود پر دنیا پہ مہرباں ہوں

اللہ رے اس کی چوکھٹ ہے بوسہ گاہ عالمکہتا ہے سنگ اسود میں سنگ آستاں ہوں

کہتا ہے میرا نالہ لب تک میں آتے آتےسو جا تھما ہوں رہ میں اس درجہ ناتواں ہوں

نفرت ہو جس کو مجھ سے ملنے کا اس سے حاصلنظروں میں کیوں سبک ہوں خاطر پہ کیوں گراں ہوں

مدت میں تم ملے ہو کیوں ذکر غیر آئےمیں اپنے سائے سے بھی خلوت میں بد گماں ہوں

چپ رہ گیا پیامی لیکن یہ خیر گزریخط نے کہا کہ سنیے پرویںؔ کی میں زباں ہوں

— پروین ام مشتاق