14 اشعار

بہت سے زمیں میں دبائے گئے ہیں

Bahut se zameen mein dabaye gaye hain

بہت سے زمیں میں دبائے گئے ہیں

«بہت سے زمیں میں دبائے گئے ہیں» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

بہت سے زمیں میں دبائے گئے ہیںبہت ان کے عاشق جلائے گئے ہیں

ہمیشہ سے عاشق ستائے گئے ہیںہمیں کیا نئے یاں جلائے گئے ہیں

اندھیرا نہ ہونے دیا وصل کی شبوہ شمعوں پہ شمعیں جلائے گئے ہیں

نہیں بے سبب ان کو مجھ سے رکاوٹبہت ہی سکھائے پڑھائے گئے ہیں

نہیں وصل کی ان سے فرمائش آساںبہت منہ بگاڑے بنائے گئے ہیں

اداؤں کے ناموں کے غمزوں کے مجھ پربہت چور پہرے بٹھائے گئے ہیں

نگاہوں کی چھریاں اداؤں کے خنجربہت میرے دل پر لگائے گئے ہیں

لڑایا ہے شہ دے کے لوگوں نے ہم کوبہت روز نقشے جمائے گئے ہیں

میں نالاں نہ تھا تیرے جور و جفا سےزمانہ کے دل کیوں دکھائے گئے ہیں

دل و دیدہ دو گھر ہیں تشریف لائیںسنوارے گئے ہیں سجائے گئے ہیں

یہ دنیا ہے اس میں ہمیشہ سے انساںبگاڑے گئے ہیں بنائے گئے ہیں

بنی آدم اعضائے یک دیگر اندکہ مٹی سے ہم تم بنائے گئے ہیں

زمیں سے ہی آئے زمیں ہی میں جانااسی سے بگاڑے بنائے گئے ہیں

ہمیں پر نہیں ظلم دنیا میں پرویںؔبہت لوگ یاں آزمائے گئے ہیں

— پروین ام مشتاق