7 اشعار

جاتا رہا قلب سے ساری خدائی کا عشق

Jaata raha qalb se saari khudai ka ishq

جاتا رہا قلب سے ساری خدائی کا عشق

«جاتا رہا قلب سے ساری خدائی کا عشق» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

جاتا رہا قلب سے ساری خدائی کا عشققابل تعریف ہے تیرے فدائی کا عشق

کیسی مصیبت ہے یہ گل کو خموشی کا شوقبلبل بیتاب کو ہرزہ سرائی کا عشق

پڑ گئی بکنے کی لت ورنہ یہاں تک نہ تھاواعظ نافہم کو ہرزہ سرائی کا عشق

کرتا ہوں جو بار بار بوسۂ رخ کا سوالحسن کے صدقے سے ہے مجھ کو گدائی کا عشق

تم کو خدا نے دیا ساری خدائی کا حسنمجھ کو عطا کر دیا ساری خدائی کا عشق

عاشق و معشوق کی ہائے نبھے کس طرحان کو کدورت کا شوق مجھ کو صفائی کا عشق

پوچھ لے پرویںؔ سے یا قیس سے دریافت کرشہر میں مشہور ہے تیرے فدائی کا عشق

— پروین ام مشتاق