11 اشعار

دل کی چوری میں جو چشم سرمہ سا پکڑی گئی

Dil ki chori mein jo chashm-e-surma sa pakdi gayi

دل کی چوری میں جو چشم سرمہ سا پکڑی گئی

«دل کی چوری میں جو چشم سرمہ سا پکڑی گئی» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

دل کی چوری میں جو چشم سرمہ سا پکڑی گئیوہ تھا چین زلف میں یہ بے خطا پکڑی گئی

صبح کوئے یار میں باد صبا پکڑی گئییعنی غیبت میں گلوں کی مبتلا پکڑی گئی

دل چڑھا مشکل سے طاق ابروئے خم دار پرسو جگہ رستہ میں جب زلف رسا پکڑی گئی

جان کر آنکھیں چرائیں تو نے ہم سے بزم میںتیری چوری دیکھ لی کیا بد نما پکڑی گئی

ہے اسی میں قلب محزوں شرطیہ کہتا ہوں میںکھول مٹھی تیری چوری مہ لقا پکڑی گئی

مست ہو کر اس کی خوشبو سے گرا تھا بچ گیاجب سنبھلنے کو وہ زلف مشک سا پکڑی گئی

ہر طرف صحن چمن میں کہتی پھرتی ہے نسیمگل سے ہنستی کھلکھلاتی موتیا پکڑی گئی

اپنے ہاتھوں پر لئے پھرتے ہیں وہ ہر دم حلفآڑ قسموں کی تو مجھ سے بارہا پکڑی گئی

رخ سے گل کو تھا تعلق زلف سے سنبل کو میلایک جا گانٹھا اسے یہ ایک جا پکڑی گئی

یار ہے خنجر بکف اور جاں نثاروں کا ہجومہائے یہ کس جرم میں خلق خدا پکڑی گئی

آپ ہی کا آسرا ہے آپ کیجے گا مددحشر میں پرویںؔ اگر یا مصطفیٰ پکڑی گئی

— پروین ام مشتاق