17 اشعار

میری عزت بڑھ گئی اک پان میں

Meri izzat badh gayi ek paan mein

میری عزت بڑھ گئی اک پان میں

«میری عزت بڑھ گئی اک پان میں» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

میری عزت بڑھ گئی اک پان میںفرق کیا آیا تمہاری شان میں

ان کو دیکھا تو کہا یوں کان میںکیوں خلل ڈالا مرے ایمان میں

عاشقی ہے بحر ناپیداکنارکشتئ دل آ گئی طوفان میں

ہے یہی پہچان بالی عمر کیبالیاں وہ دو فقط ہیں کان میں

تیرے صدقے کے لئے حاضر ہیں سبدر سمندر میں جواہر کان میں

دے کے دل اس بت کو اپنا کر لیااس تجارت میں نہیں نقصان میں

کیا مے گلگوں سے رونق گھٹ گئیرنگ بلکہ آ گیا ایمان میں

اس بت کافر کو سجدہ کر لیااس سے کیا آیا خلل ایمان میں

تم پری کا فخر ہو حوروں کا نازکاش ہوتے فرقۂ انسان میں

اس کے رخساروں پہ ہے خط کی نمودحاشیہ یہ ہے نیا قرآن میں

گیسوئے پیچاں ترے رخسار پرسورۂ واللیل ہے قرآن میں

عارض تاباں پہ ہے خط کی نمودحبشیوں کی فوج یا ایران میں

کہہ دو پیش آیا کرے اچھی طرحچل نہ جائے مجھ میں اور دربان میں

وہ کریں ظلم اور تم لب پر نہ لاؤورنہ گستاخی ہے ان کی شان میں

سنتے سنتے واعظوں سے ہجو مےضعف سا کچھ آ گیا ایمان میں

یوں کہوں گا ووں کہوں گا تھا خیالروبرو کچھ بھی نہ آیا دھیان میں

اس کی قدرت سے نہیں پرویںؔ بعیدرائی کو پربت بنا دے آن میں

— پروین ام مشتاق