8 اشعار

پوشاک نہ تو پہنیو اے سرو رواں سرخ

Poshaak na tu pehniyo aye sarv-e-rawaan surkh

پوشاک نہ تو پہنیو اے سرو رواں سرخ

«پوشاک نہ تو پہنیو اے سرو رواں سرخ» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

پوشاک نہ تو پہنیو اے سرو رواں سرخہو جائے نہ پرتو سے ترے کون و مکاں سرخ

یاں بادۂ احمر کے چھلکتے ہیں جو ساغراے پیر مغاں دیکھ کہ ہے ساری دکاں سرخ

پی بادۂ احمر تو یہ کہنے لگا گل رومیں سرخ ہوں تم سرخ زمیں سرخ زماں سرخ

کیا پان کی سرخی نے کیا قتل کسی کوشدت سے ہے کیوں آج تری تیغ زباں سرخ

سینہ میں دل غمزدہ خوں ہو گیا شایدبے وجہ بھی ہوتے ہیں کہیں اشک رواں سرخ

کیا بھڑکے ہے سینہ میں مرے آتش فرقتجو آہ کے ہمراہ نکلتا ہے دھواں سرخ

یہ قتل خزاں پر ہیں جوانان چمن شادہر سمت گل و لالہ اڑاتے ہیں نشاں سرخ

گر میری شہادت کی بشارت نہیں پرویںؔپھر کیوں ہے خط شوق کے عنواں یہ نشاں سرخ

— پروین ام مشتاق