11 اشعار

دل میں تیر عشق ہے اور فرق پر شمشیر عشق

Dil mein teer-e-ishq hai aur farq par shamshir-e-ishq

دل میں تیر عشق ہے اور فرق پر شمشیر عشق

«دل میں تیر عشق ہے اور فرق پر شمشیر عشق» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

دل میں تیر عشق ہے اور فرق پر شمشیر عشقکیا بتائیں پڑ گئی ہے پاؤں میں زنجیر عشق

دیکھنے والے یہ کہتے ہیں کتاب دہر میںتو سراپا حسن کا نقشہ ہے میں تصویر عشق

کوہ کن اور قیس مل جائیں تو میں ان سے کہوںلے گئے کیا ساتھ ہی قبروں میں تم تاثیر عشق

واہ رے انصاف اتنا بھی نہ واں پوچھا گیایہ قصور حسن ہے یا اصل میں تاثیر عشق

بات کرنے سے بھی نفرت ہو گئی دل دار کوواہ رے اظہار الفت واہ رے تاثیر عشق

کیا سبب کیا وجہ کیوں آ کر نکل جائے شکارکیوں نشانہ پر نہ جائے گا ہمارا تیر عشق

پہلے اپنا سر قلم کروائے پھر تیار ہوہر کسی کا کام ہے جو لکھ سکے تفسیر عشق

دولت دیدار حسب مدعا حاصل ہوئیمل گئی جس شخص کو تقدیر سے اکسیر عشق

حسن جاناں کی کشش دنیا میں باقی رہ گئیبد نصیبی سے ہماری اڑ گئی تاثیر عشق

تو بھی گل کے آئینے پر کھینچ دے تصویر حسنمیں بھی بلبل کو سناؤں باغ میں تقریر عشق

کیا شکایت اس کی پرویںؔ یہ تو ہوتی آئی ہےپہلے الفت کی تھی عزت اور نہ اب توقیر عشق

— پروین ام مشتاق