22 اشعار

نیک و بد کی جسے خبر ہی نہیں

Nek-o-bad ki jise khabar hi nahin

نیک و بد کی جسے خبر ہی نہیں

«نیک و بد کی جسے خبر ہی نہیں» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔

نیک و بد کی جسے خبر ہی نہیںشر ہے کم بخت وہ بشر ہی نہیں

وہ ہیں کس حال میں خبر ہی نہیںسر بھی نیچا ہے اک نظر ہی نہیں

ہاتھ خالی ہے مال و زر ہی نہیںکیا اڑیں جبکہ بال و پر ہی نہیں

مے کی بابت خیال کر واعظاس میں نفعے بھی ہیں ضرر ہی نہیں

شرم سے تیرے روئے روشن کےشمس بھی زرد ہے قمر ہی نہیں

جس کے باعث ہے زندگی بے لطفلطف یہ ہے اسے خبر ہی نہیں

راہ ہر دل کو ہوتی ہے دل سےمیرے دل کی انہیں خبر ہی نہیں

یار تو قتل عام کر ڈالےتیغ باندھے کہاں کمر ہی نہیں

ضبط کی نسبت آپ کا ہے خیالمیں ہوں عاشق مرے جگر ہی نہیں

میرے سینہ کو چیر کر دیکھودل بھی روتا ہے چشم تر ہی نہیں

آسماں لاکھ بار دشمن ہوکیا ہو برباد میرے گھر ہی نہیں

کون کہتا ہے مجھ کو سودائیایک مدت سے میرے سر ہی نہیں

ہم قیامت سے بھی ہوئے بے فکرشب ہجراں کی جب سحر ہی نہیں

پاؤں پھیلائے مست ہوتے ہیںفقرا کیونکہ مال و زر ہی نہیں

وہ تو مجھ کو جلائے جائیں گےبعد مردن بھی عمر بھر ہی نہیں

بعد مردن ہے حشر کا کھٹکامیری جاں فکر سے مفر ہی نہیں

مرغ بے وجہ چیخے جاتا ہےیہ نہ بولے تو جانور ہی نہیں

ظلم پر اب ہے آسماں نادمسر بھی نیچا ہے اک نظر ہی نہیں

توبہ توبہ ہزارہا شرطیںکیا بتاؤں اگر مگر ہی نہیں

پھرتے ہو سیکڑوں ندیدوں میںتم کو خوف نظر گزر ہی نہیں

آدمی آدمی ہے عزت سےآب جس میں نہ ہو گہر ہی نہیں

کم ہے یہ زاد راہ اے پرویںؔتم کو اندازۂ سفر ہی نہیں

— پروین ام مشتاق