10 اشعار

ہے اپنے قتل کی دل مضطر کو اطلاع

Hai apne qatl ki dil-e-muztar ko ittila'

ہے اپنے قتل کی دل مضطر کو اطلاع

«ہے اپنے قتل کی دل مضطر کو اطلاع» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ہے اپنے قتل کی دل مضطر کو اطلاعگردن کو اطلاع نہ خنجر کو اطلاع

بے پردہ آج نکلے گا پردہ نشیں مراکر دے یہ کوئی مہر منور کو اطلاع

چھپ چھپ کے اب جو نکلو تو معلوم ہو مزہکر دی ہے میں نے آپ کے گھر بھر کو اطلاع

بلبل نہ باز آئیو فریاد و آہ سےکب تک نہ ہوگی قلب گل تر کو اطلاع

کس طرح کر دیا دل نازک کو چور چوراس واقعہ کی خاک ہے پتھر کو اطلاع

کیا کام انقلاب کا کچھ بھی نہیں یہاںدور فلک کے دورۂ ساغر کو اطلاع

ہٹ جائے اک طرف بت کافر کی راہ سےدے کوئی جلد دوڑ کے محشر کو اطلاع

چلنے بھی وہ نہ پائے تھے اپنے مقام سےپہلے سے ہو گئی دل مضطر کو اطلاع

میں سخت جاں ہوں قصد کرے دیکھ بھال کرپہلے سے ہو گئی ہے یہ خنجر کو اطلاع

پرویںؔ ریاض خلد میں کس کس کو جام دیںپہلے سے ہے یہ ساقیٔ کوثر کو اطلاع

— پروین ام مشتاق