9 اشعار

خاک کر ڈالیں ابھی چاہیں تو مے خانہ کو ہم

Khaak kar dalen abhi chahein to mai-khana ko hum

خاک کر ڈالیں ابھی چاہیں تو مے خانہ کو ہم

«خاک کر ڈالیں ابھی چاہیں تو مے خانہ کو ہم» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «واعظ شراب و حور کی الفت میں غرق ہے پروین ام مشتاق» میں 20 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

خاک کر ڈالیں ابھی چاہیں تو مے خانہ کو ہمایک ساغر کو بھرو تم ایک پیمانے کو ہم

مجھ سے ہم آغوش ہو کر یوں کہا اور سچ کہاہوشیار اس طرح کر دیتے ہیں دیوانے کو ہم

نزع میں آئے ہیں صد افسوس جیتے جی نہ آئےوہ ہیں آنے کو تو اب تیار ہیں جانے کو ہم

بے نتیجہ ان پہ مرنا یاد آتا ہے ہمیںشمع پر جب دیکھتے ہیں مرتے پروانے کو ہم

کوہ کن اور قیس کی قبروں سے آتی ہے صداکیا مکمل کر گئے الفت کے افسانے کو ہم

ایک پتا بھی نہیں ہلتا بجز حکم خداکس طرح آباد کر لیں اپنے ویرانے کو ہم

ایک دن یہ ہے کہ ہیں اک شمع رو پر خود نثارایک دن وہ تھا برا کہتے تھے پروانے کو ہم

ابرووں نے سچ کہا اس کے اشارہ کی ہے دیردیکھتے بالکل نہیں پھر اپنے بیگانے کو ہم

جان جائے یا رہے اس کو سنائیں گے ضرورقیس کے پردہ میں پرویںؔ اپنے افسانے کو ہم

— پروین ام مشتاق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں