10 اشعار

ہزار شرم کرو وصل میں ہزار لحاظ

Hazar sharm karo vasl mein hazar lihaaz

ہزار شرم کرو وصل میں ہزار لحاظ

«ہزار شرم کرو وصل میں ہزار لحاظ» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

ہزار شرم کرو وصل میں ہزار لحاظنہ نبھنے دے گا دل زار و بے قرار لحاظ

نہ گد گداؤ مجھے میں بھی تم کو چھیڑوں گامیں کر چکا ہوں تمہارا ہزار بار لحاظ

نقاب اٹھنے کی جرأت کہیں نہ کر بیٹھےبڑھائے کیوں دل مضطر کا اضطرار لحاظ

شراب پی چکے بے چارہ کو اجازت دوکھڑا ہے دیر سے رخصت کو اے نگار لحاظ

میں مدح سنج ہوں دل سے ترے تلون کانہ پائیدار ہے الفت نہ پائیدار لحاظ

بتاؤ تو یہ رہے گا وصال میں کب تکہمارے ہاتھ کے بدلے گلے کا ہار لحاظ

کریں جو آپ تجاہل تو کیوں نہ سمجھاؤںکرے حضور کہاں تک وفا شعار لحاظ

وہ اپنے سر کو ذرا بھی اٹھا نہیں سکتےجھکی ہوئی ہے جو گردن تو ہے سوار لحاظ

جو ان سے پوچھو تو ان کے خلاف ہے شوخیجو ہم سے پوچھو تو ہم کو ہے ناگوار لحاظ

تکلف اٹھتے ہی پرویںؔ وہ خوب کھل کھیلےہوا ہے شوخیوں سے کتنا بے وقار لحاظ

— پروین ام مشتاق