11 اشعار

ہجر میں غم کی چڑھائی ہے الٰہی توبہ

Hijr mein gham ki chaṛhāī hai ilāhī tauba

ہجر میں غم کی چڑھائی ہے الٰہی توبہ

«ہجر میں غم کی چڑھائی ہے الٰہی توبہ» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 44 سیکنڈ ہے۔

ہجر میں غم کی چڑھائی ہے الٰہی توبہکیا نصیبے کی برائی ہے الٰہی توبہ

کتنے کانوں کے وہ کچے ہیں کہ اللہ کی پناہکیا رقیبوں کی بن آئی ہے الٰہی توبہ

نالہ ہو آہ ہو فریاد ہو یا زاری ہویار تک سب کی رسائی ہے الٰہی توبہ

ہو چکا قتل جہاں تیغ بھی اٹھنے کی نہیںکس قدر نرم کلائی ہے الٰہی توبہ

شیخ صاحب بھی نہیں بچ کے یہاں سے نکلےکس قدر ان کو پلائی ہے الٰہی توبہ

دل لگی آپ سے کی خلق میں بدنام ہوئےنیک نامی یہ کمائی ہے الٰہی توبہ

چاہ کر تم کو بھلا اور کو کیوں کر چاہوںواہ کیا دل میں سمائی ہے الٰہی توبہ

لے گئے چھین کے دل میل نہیں چتون پرکتنی دیدہ میں صفائی ہے الٰہی توبہ

بوسہ مانگا تو کہا شکر خدا اچھا ہوںبات کیا جلد اڑائی ہے الٰہی توبہ

نہیں معلوم کہ کس شخص کا منہ دیکھا ہےآج پھر غم کی چڑھائی ہے الٰہی توبہ

کوچۂ عشق کی سچ پوچھو تو ہم نے پرویںؔکس قدر خاک اڑائی ہے الٰہی توبہ

— پروین ام مشتاق