9 اشعار

نرگسیں آنکھ بھی ہے ابروئے خم دار کے پاس

Nargisīñ āñkh bhī hai abrue-ḳhamdār ke paas

نرگسیں آنکھ بھی ہے ابروئے خم دار کے پاس

«نرگسیں آنکھ بھی ہے ابروئے خم دار کے پاس» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

نرگسیں آنکھ بھی ہے ابروئے خم دار کے پاسدوسری اور بھی تلوار ہے تلوار کے پاس

دشمنوں کا مری قسمت سے ہے قابو مجھ پریار کے پاس ہے دل یار ہے اغیار کے پاس

یاد رکھنا جو ہوئی وعدہ خلافی ان کیبسترہ آن جمے گا تری دیوار کے پاس

قیدیٔ زلف کی قسمت میں ہے رخسار کی سیرشکر ہے باغ بھی ہے مرغ گرفتار کے پاس

چہرہ بھی برق بھی دل لینے میں گیسو بھی بلاایک سا معجزہ ہے کافر و دیں دار کے پاس

غیر بے جرم ہیں اور میں ہوں وفا کا مجرمکون آتا بھلا مجھ سے گنہ گار کے پاس

قبر میں سوئیں گے آرام سے اب بعد فناآئے گا خواب عدم دیدۂ بے دار کے پاس

اس کی کیا وجہ مرے ہوتے وہاں کیوں نہ رہیںکیوں رہے زلف سیہ آپ کے رخسار کے پاس

ہوشیاری سے ہو پرویںؔ چمن حسن کی سیردام اور دانہ ہیں دونوں رخ دل دار کے پاس

— پروین ام مشتاق