10 اشعار

جس طرح دو جہاں میں خدا کا نہیں شریک

Jis tarah do jahāñ mein ḳhudā kā nahīñ sharīk

جس طرح دو جہاں میں خدا کا نہیں شریک

«جس طرح دو جہاں میں خدا کا نہیں شریک» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

جس طرح دو جہاں میں خدا کا نہیں شریکتیرے جمال میں نہیں کوئی حسیں شریک

میں بھی ترا فدائی ہوں مجھ پہ بھی رحم کھاجب تک ہے اس گمان میں کچھ کچھ یقیں شریک

اس کے ستم ہی کم ہیں جو اوروں کا نام لوںہے آسماں شریک نہ اس میں زمیں شریک

روز جزا امید ہے سب کو سزا ملےاقدام قتل میں ہیں مرے سب حسیں شریک

اے بدر تیرا دعویٔ یکتائی سب غلطجملہ صفات میں ہے ترے وہ جبیں شریک

سچ پوچھئے تو جان جہاں میرے قتل میںترچھی نظر کے ساتھ ہی چین جبیں شریک

واعظ تو باغ حسن کی اک بار سیر کرممکن ہے دل کشی میں ہو خلد بریں شریک

کیا وجہ تیرے ظلم و ستم میں مزا نہیںاے دور چرخ آج وہ شاید نہیں شریک

بھیجا پیام جلسہ تو انداز سے کہاعرصہ ہوا کہ ہم نہیں ہوتے کہیں شریک

پرویںؔ غلط ہے ان کو سمجھنا جدا جداہیں جسم و جاں کی طرح سے دنیا و دیں شریک

— پروین ام مشتاق