7 اشعار

جو دل مرا نہیں مجھے اس دل سے کیا غرض

Jo dil mirā nahīñ mujhe us dil se kyā gharaz

جو دل مرا نہیں مجھے اس دل سے کیا غرض

«جو دل مرا نہیں مجھے اس دل سے کیا غرض» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

جو دل مرا نہیں مجھے اس دل سے کیا غرضچلنی نہ ہو جو راہ تو منزل سے کیا غرض

ڈوبوں گا گر ہے میرے مقدر میں ڈوبناغواص بحر عشق کو ساحل سے کیا غرض

وہ دل کو دیکھتا ہے نہ اعمال ظاہریلیلیٰ کے خواست گار کو محمل سے کیا غرض

سنتا ہے کون عاشقوں کی آہ و زاریاںگوش چمن کو شور عنادل سے کیا غرض

ہم اس کے شیفتہ ہیں رقیبوں سے واسطہگل سے غرض ہے فوج عنادل سے کیا غرض

مرتا ہوں اور جا نہیں سکتا سوئے عدممجھ ناتواں کو طوق و سلاسل سے کیا غرض

کیوں در پئے تلاش ہیں احباب و اقرباپرویںؔ شہید ناز کو قاتل سے کیا غرض

— پروین ام مشتاق