16 اشعار

وقت پر آتے ہیں نہ جاتے ہیں

Waqt par aate hain na jaate hain

وقت پر آتے ہیں نہ جاتے ہیں

«وقت پر آتے ہیں نہ جاتے ہیں» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «واعظ شراب و حور کی الفت میں غرق ہے پروین ام مشتاق» میں 20 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

وقت پر آتے ہیں نہ جاتے ہیںروز اقرار بھول جاتے ہیں

وہ جو بے وجہ مسکراتے ہیںسیکڑوں وہم دل میں آتے ہیں

اشک حسرت نکل کے دامن میںجان سے ہاتھ دھوئے آتے ہیں

جب تم آتے نہیں ہو وعدہ پرملک الموت کو بلاتے ہیں

سو گیا بخت جب سے رو رو کرسارے ہم سایوں کو جگاتے ہیں

ان کو شرم و حیا نہیں آتیدل چرا کر نظر چراتے ہیں

بے خطا ہے وہ آسماں مجرماس کو الزام کیوں لگاتے ہیں

جان کر بن گئے ہیں ہم بھولےچٹکیوں میں کسے اڑاتے ہیں

تیرے کوچہ میں ہم بھی اب تھک کردل کے مانند بیٹھے جاتے ہیں

غیر کیا اور اس کی ہستی کیاآپ کیوں مفت خوف کھاتے ہیں

کوئی تازہ ستم کیا ایجاددیکھ کر وہ جو مسکراتے ہیں

آگ پانی میں کیوں لگاتے ہونیک جو لوگ ہیں بجھاتے ہیں

تم مرے دل میں ہو تو دیکھوں میںحور و غلماں کہیں سماتے ہیں

میں نے پوچھی جو وجہ قتل کہاٹھہرو دم لے کے ہم بتاتے ہیں

عشق تیرے طفیل دنیا کےطنزیں سنتے ہیں طعنے کھاتے ہیں

بے سبب کیا بگڑنے کا باعثآپ پرویںؔ کو بھی بناتے ہیں

— پروین ام مشتاق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں