7 اشعار

کریں گے ظلم دنیا پر یہ بت اور آسماں کب تک

Karenge zulm duniya par ye but aur aasman kab tak

کریں گے ظلم دنیا پر یہ بت اور آسماں کب تک

«کریں گے ظلم دنیا پر یہ بت اور آسماں کب تک» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

کریں گے ظلم دنیا پر یہ بت اور آسماں کب تکرہے گا پیر یہ کب تک رہوگے تم جواں کب تک

خداوندا انہیں کس دن شعور آئے گا دنیا کارہیں گی بے پڑھی لکھی ہماری لڑکیاں کب تک

پھرے گا اور کتنے دن خیالی پار گھوڑے پراڑے گا شعر گوئی میں نہ انجن کا دھواں کب تک

عنان حکمرانی دیکھیے کس دن خدا لے گارہیں گے قسمتوں پر حکمراں یہ آسماں کب تک

دئے جائیں گے کب تک شیخ صاحب کفر کے فتوےرہیں گی ان کے صندوقچہ میں دیں کی کنجیاں کب تک

چلی جائے گی اک ہی رخ ہوا تاکہ زمانہ کینہ پورا ہوگا تیرا دور یہ اے آسماں کب تک

تحمل ختم ہوتے ہی بڑی بد نامیاں ہوں گیتمہارے خوف سے پرویںؔ نہ کھولے گی زباں کب تک

— پروین ام مشتاق