7 اشعار

مجھ کو دنیا کی تمنا ہے نہ دیں کا لالچ

Mujh ko duniya ki tamanna hai na deen ka lalach

مجھ کو دنیا کی تمنا ہے نہ دیں کا لالچ

«مجھ کو دنیا کی تمنا ہے نہ دیں کا لالچ» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «واعظ شراب و حور کی الفت میں غرق ہے پروین ام مشتاق» میں 20 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

مجھ کو دنیا کی تمنا ہے نہ دیں کا لالچہائے لالچ ہے تو اک ماہ جبیں کا لالچ

عشق بازی پہ سنا مجھ کو ملامت نہ کروحیف ہے جس کو نہ ہو تم سے حسیں کا لالچ

حالت قلب سر بزم بتاؤں کیوں کرپردۂ دل میں ہے اک پردہ نشیں کا لالچ

جب یہیں طیش میں گزرے تو وہاں کیا امیدنہ رہا اس لئے ہم کو تو کہیں کا لالچ

بوریا تخت سلیماں سے کہیں بہتر ہےہم غریبوں کو نہیں تاج و نگیں کا لالچ

نہ میں دنیا کا طلب گار نہ عقبیٰ کی ہوسآسمانوں کی تمنا نہ زمیں کا لالچ

دل بھی دو جان بھی دو زر بھی دو اس کو پرویںؔبڑھ گیا سب سے مرے ماہ جبیں کا لالچ

— پروین ام مشتاق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں