11 اشعار

نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں

Naye ghamze naye andaaz nazar aate hain

نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں

«نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «واعظ شراب و حور کی الفت میں غرق ہے پروین ام مشتاق» میں 20 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیںدن بہ دن حسن کے اعجاز نظر آتے ہیں

وہ شہید نگہ ناز نظر آتے ہیںآج کل اور ہی انداز نظر آتے ہیں

سر جھکائے ہوئے چلتا ہوں ترے کوچہ میںکیونکہ سر باز ہی سر باز نظر آتے ہیں

بہت اونچے نہ اڑے ہیں نہ اڑیں گے گیسویہ کبوتر تو گرہ باز نظر آتے ہیں

جھوٹ خود بولنا الٹا مجھے جھوٹا کہناسچ ہے دم بازوں کو دم باز نظر آتے ہیں

بھیج تو دی ہے غزل دیکھیے خوش ہوں کہ نہ ہوںکچھ کھٹکتے ہوئے الفاظ نظر آتے ہیں

غمزہ و ناز و ادا مہر و وفا جور و جفاسب کے سب خانہ بر انداز نظر آتے ہیں

لطف آئے جو شب وصل موذن سو جائےکیونکہ وہ گوش بر آواز نظر آتے ہیں

عمر گزری ہمیں سرکار پہ مرتے مرتےجان دیتے ہیں تو جاں باز نظر آتے ہیں

بلبلوں سے نہیں گل زار زمانہ خالیشکر ہے یاں بھی ہم آواز نظر آتے ہیں

بد گمانی بھی محبت کا نشاں ہے پرویںؔغلطی ہو تو ہو ناراض نظر آتے ہیں

— پروین ام مشتاق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں