عجیب منظر بالائے بام ہوتا ہے
کلام: پیر نصیرالدین
عجیب منظر بالائے بام ہوتا ہےجب آشکار وہ ماہ تمام ہوتا ہے
ہراس شب، اثر ضعف، خوف راہزناںمسافروں پہ گراں وقت شام ہوتا ہے
آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر
مہمان شاعر: پیر نصیرالدین
عجیب منظر بالائے بام ہوتا ہےجب آشکار وہ ماہ تمام ہوتا ہے
ہراس شب، اثر ضعف، خوف راہزناںمسافروں پہ گراں وقت شام ہوتا ہے
بسے ہیں آپ مرے دل میں عمر بھر کے لئےصدف بنا تھا یہ شاید اسی گہر کے لئے
بلا خریدی ہے میں نے یہ عمر بھر کے لئےتمہاری زلف کا سودا ہے میرے سر کے لئے