حقیقت اور ہی کچھ ہے مگر ہم کیا سمجھتے ہیں
کلام: پیر نصیرالدین
حقیقت اور ہی کچھ ہے مگر ہم کیا سمجھتے ہیںجو اپنا ہو نہیں سکتا اسے اپنا سمجھتے ہیں
یہ درس اولیں مجھ کو ملا میرے بزرگوں سےبہت چھوٹے ہیں وہ اوروں کو جو چھوٹا سمجھتے ہیں
آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر
مہمان شاعر: پیر نصیرالدین
حقیقت اور ہی کچھ ہے مگر ہم کیا سمجھتے ہیںجو اپنا ہو نہیں سکتا اسے اپنا سمجھتے ہیں
یہ درس اولیں مجھ کو ملا میرے بزرگوں سےبہت چھوٹے ہیں وہ اوروں کو جو چھوٹا سمجھتے ہیں
محفل کا یہ انداز کہاں وہ ہیں کہاں میںدنیا کو خبر ہوگی جو کھولوں گا زباں میں
چاہو تو ہم آہنگ کروں دل سے زباں میںکچھ عرض کروں جان کی پااؤں جو اماں میں