ہر طرف سے جھانکتا ہے روئے جانانہ مجھے
کلام: پیر نصیرالدین
ہر طرف سے جھانکتا ہے روئے جانانہ مجھےمحفل ہستی ہے گویا آئینہ خانہ مجھے
اک قیامت ڈھائے گا دنیا سے اٹھ جانا مرایاد کر کے روئیں گے یاران میخانہ مجھے
آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر
مہمان شاعر: پیر نصیرالدین
ہر طرف سے جھانکتا ہے روئے جانانہ مجھےمحفل ہستی ہے گویا آئینہ خانہ مجھے
اک قیامت ڈھائے گا دنیا سے اٹھ جانا مرایاد کر کے روئیں گے یاران میخانہ مجھے
تم اک نگاہ کبھی دل پہ ڈال کر دیکھواس آئنے کی ذرا دیکھ بھال کر دیکھو
چلو یہ زعم بھی اپنا نکال کر دیکھوتمارے در پہ ہوں اب اپنے ٹال کر دیکھو