آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے
آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دےبادۂ ناب کے ساقی مجھے پیمانے دے
کس کو معلوم کہ کل کون رہے گا زندہآج رندوں کو ذرا پی کے بہک جانے دے
آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر
مہمان شاعر: پیر نصیرالدین
آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دےبادۂ ناب کے ساقی مجھے پیمانے دے
کس کو معلوم کہ کل کون رہے گا زندہآج رندوں کو ذرا پی کے بہک جانے دے
یہ نظر کی زد ہے ظالم مرا دم نکل نہ جائےمجھے صرف اس کا ڈر ہے کہ یہ تیر چل نہ جائے
وہ اٹھی ہے آتش غم کی نفس نفس ہے سوزاںمری روح تپ نہ اٹھے مرا جسم جل نہ جائے
عشق نے جکڑا ہے مجھ کو اس کڑی زنجیر سےجس کے حلقے کھل نہیں سکتے کسی تدبیر سے
اور ہی کچھ ہو شب فرقت کے کٹنے کی سبیلدل تصور سے بہلتا ہے نہ اب تصویر سے
اٹھے نہ تھے ابھی ہم حال دل سنانے کوزمانہ بیٹھ گیا حاشیے چڑھانے کو
بھری بہار میں پہنچی خزاں مٹانے کوقدم اٹھائے جو کلیوں نے مسکرانے کو