جو آستاں سے ترے لَو لگائے بیٹھے ہیں
کلام: پیر نصیرالدین
جو آستاں سے ترے لَو لگائے بیٹھے ہیںخدا گواہ، وہ دنیا پہ چھائے بیٹھے ہیں
چمک رہی ہیں جبینیں ترے فقیروں کیتجلّیات کے سہرے سجائے بیٹھےہیں
آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر
مہمان شاعر: پیر نصیرالدین
جو آستاں سے ترے لَو لگائے بیٹھے ہیںخدا گواہ، وہ دنیا پہ چھائے بیٹھے ہیں
چمک رہی ہیں جبینیں ترے فقیروں کیتجلّیات کے سہرے سجائے بیٹھےہیں
میں اور مجھ کو اور کسی دلربا سے عشق ؟خیر الوریٰ سے عشق ہے خیر الوریٰ سے عشق
دنیا کی مجھ کو چاہ نہ اس کی ادا سے عشقدونوں جہاں میں بس ہے مجھے مصطفیٰ سے عشق
یہ زمانہ یہ دور کچھ بھی نہیںاک تماشہ ہے اور کچھ بھی نہیں
اک تری آرزو سے ہے آبادورنہ اس دل میں اور کچھ بھی نہیں