7 اشعار

اب حرف تمنا کو سماعت نہ ملے گی

Ab harf-e-tamanna ko sama'at na milegi

اب حرف تمنا کو سماعت نہ ملے گیبیچوگے اگر خواب تو قیمت نہ ملے گی

تشہیر کے بازار میں اے تازہ خریدارزیبائشیں مل جائیں گی قامت نہ ملے گی

لمحوں کے تعاقب میں گزر جائیں گی صدیاںیوں وقت تو مل جائے گا مہلت نہ ملے گی

سوچا ہی نہ تھا یوں بھی اسے یاد رکھیں گےجب اس کو بھلانے کی بھی فرصت نہ ملے گی

تا عمر وہی کار زیاں عشق رہا یادحالانکہ یہ معلوم تھا اجرت نہ ملے گی

تعبیر نظر آنے لگی خواب کی صورتاب خواب ہی دیکھو گے بشارت نہ ملے گی

آئینہ صفت وقت ترا حسن ہیں ہم لوگکل آئنے ترسیں گے تو صورت نہ ملے گی

— پیرزادہ قاسم