8 اشعار

خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا

Khoon se jab jala diya ek diya bujha hua

خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہواپھر مجھے دے دیا گیا ایک دیا بجھا ہوا

اپنے تو عہد شوق کے مرحلے سب عجیب تھےہم کو وصال سا لگا ایک دیا بجھا ہوا

ایک ہی داستان شب ایک ہی سلسلہ تو ہےایک دیا جلا ہوا ایک دیا بجھا ہوا

شعلہ ہوا نژاد تھا پھر بھی ہوا کے ہاتھ نےبس یہی فیصلہ لکھا ایک دیا بجھا ہوا

محفل رنگ و نور کی پھر مجھے یاد آ گئیپھر مجھے یاد آ گیا ایک دیا بجھا ہوا

مجھ کو نشاط سے فزوں رسم وفا عزیز ہےمیرا رفیق شب رہا ایک دیا بجھا ہوا

درد کی کائنات میں مجھ سے بھی روشنی رہیویسے میری بساط کیا ایک دیا بجھا ہوا

سب مری روشنئ جاں حرف سخن میں ڈھل گئیاور میں جیسے رہ گیا ایک دیا بجھا ہوا

— پیرزادہ قاسم