8 اشعار

کون گماں یقیں بنا کون سا گھاؤ بھر گیا

Kaun gumaan yaqeen bana kaun sa ghaao bhar gaya

کون گماں یقیں بنا کون سا گھاؤ بھر گیاجیسے سبھی گزر گئے جونؔ بھی کل گزر گیا

اس کا چراغ وصل تو ہجر سے رابطے میں تھاوہ بھی نہ جل سکا ادھر یہ بھی ادھر بکھر گیا

زیست کی رونقیں تمام اس کی تلاش میں رہیںاور وہ غم نژاد جونؔ کس کو خبر کدھر گیا

گام بہ گام اک بہشت اور وہ اس کی ایک ہشتراہ میں بھی رکا نہیں اور نہ اپنے گھر گیا

رسم سپردگی کو کب درخور اعتنا کہاخود سے جو تھا گریز پا سب سے گریز کر گیا

اس کے سخن کا معجزہ اس کی نہیں میں دیکھیےہاں بھی ہے ماجرا مگر جونؔ کہاں ادھر گیا

اس کو تھا سخت اختلاف زیست کے متن سے سو وہبر سر حاشیہ رہا اور کمال کر گیا

اس کے خیال کی نمود عہد بہ عہد جاوداںبس یہ کہو کہ جونؔ ہے یہ نہ کہو کہ مر گیا

— پیرزادہ قاسم