7 اشعار

اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئے

Adaakari mein bhi sau karb ke pehlu nikal aaye

اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئےکہ فنکارانہ روتے تھے مگر آنسو نکل آئے

ہمیں اپنی ہی جانب اب سفر آغاز کرنا ہےسو مثل نکہت گل ہو کے بے قابو نکل آئے

یہی بے نام پیکر حسن بن جائیں گے فردا کاسخن مہکے اگر کچھ عشق کی خوشبو نکل آئے

اسی امید پر ہم قتل ہوتے آئے ہیں اب تککہ کب قاتل کے پردے میں کوئی دل جو نکل آئے

سمجھتے تھے کہ مہجوری کی ظلمت ہی مقدر ہےمگر پھر اس کی یادوں کے بہت جگنو نکل آئے

دلوں کو جیت لینا اس قدر آسان ہی کب تھامگر اب شعبدے ہیں اور بہت جادو نکل آئے

سفر کی انتہا تک ایک تازہ آس باقی ہےکہ میں یہ موڑ کاٹوں اس طرف سے تو نکل آئے

— پیرزادہ قاسم