5 اشعار

چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے

Charagh hoon kab se jal raha hoon mujhe duaon mein yaad rakhiye

چراغ ہوں کب سے جل رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیےجو بجھ گیا تو سحر نما ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے

وہ بات جو آپ کہہ نہ پائے مری غزل میں بیاں ہوئی ہےمیں آپ کا حرف مدعا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے

غبار ہوں آپ چاہے غازہ بنائیں یا زیر پا بچھا لیںمیں کب سے رقصاں ہوں تھک چکا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے

بہت ہی شائستگی سے ہر لمحہ ڈوبتی اک صدا کی صورتمیں خلوت جاں میں بجھ رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے

بلا سے یہ راہ شوق میری نہ ہو سکی پر تمہاری خاطرمثال نقش قدم بچھا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے

— پیرزادہ قاسم