5 اشعار

اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائے

Ek saza aur aseeron ko suna di jaye

اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائےیعنی اب جرم اسیری کی سزا دی جائے

دست نادیدہ کی تحقیق ضروری ہے مگرپہلے جو آگ لگی ہے وہ بجھا دی جائے

اس کی خواہش ہے کہ اب لوگ نہ روئیں نہ ہنسیںبے حسی وقت کی آواز بنا دی جائے

صرف سورج کا نکلنا ہے اگر صبح تو پھرایک شب اور مری شب سے ملا دی جائے

اور اک تازہ ستم اس نے کیا ہے ایجاداس کو اس بار ذرا کھل کے دعا دی جائے

— پیرزادہ قاسم