5 اشعار

عجب ہیں ہم یہ کس کی سعئ لا حاصل پہ روتے ہیں

Ajab hain hum yeh kis ki sa'ee-e-la-hasil pe rote hain

عجب ہیں ہم یہ کس کی سعئ لا حاصل پہ روتے ہیںابھی زندہ ہیں اور ناکامیٔ قاتل پہ روتے ہیں

ہمیں رہ رہ کے طوفاں کی رفاقت یاد آتی ہےہیں اب آسودۂ ساحل کھڑے ساحل پہ روتے ہیں

بہت ہم کو رلایا ماضی و امروز نے سو ابنشاط گریہ ایسا ہے کہ مستقبل پہ روتے ہیں

گروہ عاشقاں تھا شہر گریہ ان کی منزل تھییہ رستے بھر بھی روتے آئے اب منزل پہ روتے ہیں

کہاں روتے ہیں ہم آغاز تنسیخ تعلق پرجو کھینچی جا چکی ہے اس حد فاصل پہ روتے ہیں

— پیرزادہ قاسم