5 اشعار

حجرۂ ذات سے باہر تو نکل کر دیکھو

Hujra-e-zaat se bahar to nikal kar dekho

حجرۂ ذات سے باہر تو نکل کر دیکھوتم کسی دوسرے پیکر میں بھی ڈھل کر دیکھو

کیا عجب تم کو ہی یہ ہم سفری راس آ جائےدو قدم ہی سہی تم ساتھ تو چل کر دیکھو

ہاں یہ دستار فضیلت بھی قبائے زر بھیخود کو دیکھو تو یہ پوشاک بدل کر دیکھو

موسم ہجر کوئی رت ہے نہ کچھ آب و ہوااک تقاضا ہے کہ پھر گھر سے نکل کر دیکھو

مات ہو جائے مگر حوصلۂ دل کے لیےآخری چال جو باقی ہے وہ چل کر دیکھو

— پیرزادہ قاسم